سری نگر،07؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ریڈونی علاقے میں ایک کمسن لڑکی سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زبردست رنج و الم اور افسوس کا اظہار کیاہے۔
انہوں نے کہا کہ معصوموں کی ہلاکت کو کوئی بھی جواز نہیں بخشا جاسکتا، انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور پتھر کا جواب کسی بھی صورت میں گولی نہیں ہوسکتی۔دونوں لیڈران نے مرحومین کے جملہ سوگوران خصوصاً والدین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔انہوں نے ریاستی گورنر شری این این ووہرا پر زور دیا کہ گذشتہ3سال سے جاری مسلسل شہری ہلاکتوں پر بریک لگانے کے لئے ٹھوس اقدامات اْٹھائیں اور انسانی جانوں کا تحفظ ہر حال میں ممکن بنایا جائیں۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ریڈونی میں ہفتہ کے روز سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کرکے ایک کمسن لڑکی سمیت 3 عام شہریوں کو ہلاک کردیا۔سرکاری ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ریڈونی میں کچھ نوجوانوں نے ہفتہ کو دوپہر کے وقت گاؤں سے گذرنے والی فوج کی ایک گشتی پارٹی پر پتھراؤ کیا۔ انہوں بتایا کہ فوجیوں نے احتجاجی نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے ان پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا ’زخمیوں کو پبلک ہیلتھ سنٹر فرسل منتقل کیا گیا جہاں ایک کمسن لڑکی سمیت تین عام شہریوں کو مردہ قرار دیا گیا‘۔مہلوکین کی شناخت 22 سالہ شاکر احمد کھانڈے ولد غلام حسین کھانڈے، 20 سالہ ارشاد احمد ولد عبدالمجید اور 16 سالہ عندلیب دختر علی محمد کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ نوجوانوں کی ہلاکتوں کے بعد ضلع کولگام کی صورتحال انتہائی کشیدہ رخ اختیار کرگئی ہے۔ ضلع میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہیں۔